
مندرجہ ذیل حوالہ پڑھیں یا سنیں
کھویٔے ہویٔے بیٹے کی تمثیل
15:11پھر یِسوعؔ نے کہا: ”کسی شخص کے دو بیٹے تھے۔ 12اُن میں سے چُھوٹے نے اَپنے باپ سے کہا، ’اَے باپ، جائداد میں جو حِصّہ میرا ہے مُجھے دے دو۔‘ اِس لیٔے باپ نے اَپنی جائداد اُن میں بانٹ دی۔13”تھوڑے دِنوں بعد، چُھوٹے بیٹے نے اَپنا سارا مال و متاع جمع کیا، اَور دُور کسی دُوسرے مُلک کو روانہ ہو گیا اَور وہاں اَپنی ساری دولت عیش و عشرت میں اُڑا دی۔“ 14جَب سَب کُچھ خرچ ہو گیا تو اُس مُلک میں ہر طرف سخت قحط پڑا اَور وہ مُحتاج ہو گیا۔ 15تَب وہ اُس مُلک کے ایک باشِندے کے پاس کام ڈھونڈنے پہُنچا۔ اُس نے اُسے اَپنے کھیتوں میں سُؤر چَرانے کے کام پر لگا دیا۔ 16وہاں وہ اُن پھلیوں سے جنہیں سُؤر کھاتے تھے، اَپنا پیٹ بھرنا چاہتا تھا لیکن کویٔی اُسے پھلیاں بھی کھانے کو نہیں دیتا تھا۔
17”تَب وہ ہوش میں آیا، اَور کہنے لگا، ’میرے باپ کے مزدُوروں کو ضروُرت سے بھی زِیادہ کھانا ملتا ہے لیکن مَیں یہاں بھُوک کی وجہ سے مَر رہا ہُوں! 18میں اُٹھ کر اَپنے باپ کے پاس جاؤں گا اَور اُس سے کہُوں گا: اَے باپ! میں آسمانی خُدا کی نظر میں اَور تیری نظر میں گُنہگار ہُوں۔ 19اَب تو میں اِس لائق بھی نہیں رہا کہ تیرا بیٹا کہلا سکوں؛ مُجھے بھی اَپنے مزدُوروں میں شامل کر لے۔‘ 20پس وہ اُٹھا اَور اَپنے باپ کے پاس چل دیا۔
”لیکن ابھی وہ کافی دُور ہی تھا، کہ اُس کے باپ نے اُسے دیکھ لیا اَور اُس کے باپ کو اُس پر بڑا ترس آیا؛ اَور اَپنے بیٹے کی طرف دَوڑکر، اُسے گلے لگا لیا اَور خُوب چُوما۔
21”بیٹے نے اَپنے باپ سے کہا، ’اَے باپ! میں آسمانی خُدا کی نظر میں اَور آپ کی نظر میں گُنہگار ہُوں، اَب تو میں اِس لائق بھی نہیں رہا کہ آپ کا بیٹا کہلا سکوں۔‘
22”مگر باپ نے اَپنے خادِموں سے کہا، ’جلدی کرو! اَور سَب سے پہلے ایک بہترین چوغہ لاکر اِسے پہناؤ۔ اَور اِس کے ہاتھ میں انگُوٹھی اَور پاؤں میں جُوتی پہناؤ۔ 23ایک موٹا تازہ بچھڑا لاکر ذبح کرو تاکہ ہم کھایٔیں اَور جَشن منائیں۔ 24کیونکہ میرا بیٹا جو مَر چُکاتھا، اَب وہ زندہ ہو گیا ہے، کھو گیا تھا، اَب مِلا ہے۔‘ پس سبھی خُوشی منانے لگے۔
25”اِس دَوران، بڑا بیٹا جو کھیت میں تھا، جَب وہ گھر کے نزدیک پہُنچا تو اُس نے گانے بجانے اَور ناچنے کی آواز سُنی۔ 26اِس لیٔے اُس نے ایک خادِم کو بُلایا اَور پُوچھا کہ یہ کیا ہو رہاہے؟ 27تیرا بھایٔی لَوٹ آیا ہے، اُس نے اُس سے کہا، ’اَور تیرے باپ نے ایک موٹا تازہ بچھڑا ذبح کرایا ہے کیونکہ اُس نے اُسے صحیح سلامت واپس پالیاہے۔‘
28”لیکن بڑا بھایٔی خفا ہو گیا اَور اَندر نہیں جانا چاہتا تھا مگر اُس کا باپ باہر آکر اُسے منانے لگا۔ 29اُس نے باپ کو جَواب میں کہا، ’دیکھ! میں اِتنے برسوں سے تیری خدمت کر رہا ہُوں اَور کبھی تیری حُکم عُدولی نہیں کی مگر تُونے تو کبھی ایک بکری کا جَوان بچّہ بھی مُجھے نہیں دیا کہ اَپنے دوستوں کے ساتھ خُوشی مناتا۔ 30لیکن جَب تیرا یہ بیٹا تیرا سارا پُونجی طوائفوں پر لُٹا کر واپس آیا تو، تُونے اِس کے لیٔے ایک موٹا تازہ بچھڑا ذبح کرایا ہے!‘
31” ’میرے بیٹے،‘ باپ نے اُس سے کہا، ’تو ہمیشہ میرے پاس ہے اَور میرا جو کُچھ بھی ہے سَب تیرا ہی ہے۔ 32لیکن ہمیں خُوشی منانا اَور شادمان ہونا مُناسب تھا کیونکہ تیرا یہ بھایٔی جو مَر چُکاتھا اَور اَب زندہ ہو گیا ہے؛ اَور کھو گیا تھا اَور اَب مِل گیا ہے۔‘ “
کہانی کو اپنے الفظ میں بیان کرنے کے لئے تھوڑا وقت لیں۔ آپ اُسے بلند آواز میں دہرائیں یا اُسے لکھیں۔ اگر آپ کو یاد کرنے میں مشکل پیش آئے تو پھر کہانی کو دوبارہ پڑھیں یا پھر سنیں۔
جب آپ کو یہ محسوس ہو کہ آپ اس کہانی سے پورے طور پر واقف ہوگئے ہیں تو پھر تھوڑا مزید وقت لیں اور مندرجہ سوالات کی بارے میں سوچیں۔
Get Discovery Bible Studies on your phone
Discover copyright ©2015-2026 discoverapp.org
اُردو ہم عصر ترجُمہ™، کِتاب مُقدّس. حق اِشاعت © 1999، 2005، 2022، 2024 Biblica, Inc. کی اِجازت سے اِستعمال کیا جاتا ہے۔ دُنیا بھر میں تمام حق محفوظ۔ Holy Bible. Urdu Contemporary Version™ Copyright © 1999, 2005, 2022, 2024 by Biblica, Inc. Used with permission. All rights reserved worldwide.