دریافت

درس۔15

فسح کی عید کا مطلب

متی 26: 17-30
  1. سب سے پہلے ہم شروعات کریں گے کہ آج ہم کس وجہ سے اللہ کا شکر ادا کریں گے؟
  2. ہمارے پریوار، ہمارے سماج، یا ہمارے دوستوں کی زندگی میں کِیا کوئی پریشانی ہیں جس کے لئے ہم آج اللہ سے دعا کر سکتے ہیں؟
  3. پچھلی بار جو ہم نے کلامِ مُقدّس پڑھا اور سنا، اس حصے میں سے آج ہمیں کون سی بات یاد ہے جو سب سے خاص تھی؟
  4. پچھلی بار جو ہم نے کلامِ مُقدّس سنا، اس حصے کی جس آیت کو ہم نے عمل کرنے کے لئے تے کیا تھا تو ہم نے کس طرح سے عمل کیا؟
  5. پچھلی بار جو ہم نے کلام مقدس سنا، کیا ہم نے اپنے خاص طریقے کے ذریعے کسی دوسرے شخص سے اسکا ذکر کیا؟ اگر ہم نے دوسرے لوگوں سے اسکا ذکر کیا تو کیسا رہا ہمارا تجربہ؟
  6. اب ہم کلامِ مُقدّس پڑھیں گے، سنیں گے، اور سمجھیں گے۔

فسح کی عید کے لئے تیاریاں

بےخمیری روٹی کی عید آئی۔ پہلے دن عیسیٰ کے شاگردوں نے اُس کے پاس آ کر پوچھا، ”ہم کہاں آپ کے لئے فسح کا کھانا تیار کریں؟“

اُس نے جواب دیا، ”یروشلم شہر میں فلاں آدمی کے پاس جاؤ اور اُسے بتاؤ، ’اُستاد نے کہا ہے کہ میرا مقررہ وقت قریب آ گیا ہے۔ مَیں اپنے شاگردوں کے ساتھ فسح کی عید کا کھانا آپ کے گھر میں کھاؤں گا‘۔“

شاگردوں نے وہ کچھ کیا جو عیسیٰ نے اُنہیں بتایا تھا اور فسح کی عید کا کھانا تیار کیا۔

کون غدار ہے؟

شام کے وقت عیسیٰ بارہ شاگردوں کے ساتھ کھانا کھانے کے لئے بیٹھ گیا۔ جب وہ کھانا کھا رہے تھے تو اُس نے کہا، ”مَیں تم کو سچ بتاتا ہوں کہ تم میں سے ایک مجھے دشمن کے حوالے کر دے گا۔“

شاگرد یہ سن کر نہایت غمگین ہوئے۔ باری باری وہ اُس سے پوچھنے لگے، ”خداوند، مَیں تو نہیں ہوں؟“

عیسیٰ نے جواب دیا، ”جس نے میرے ساتھ اپنا ہاتھ سالن کے برتن میں ڈالا ہے وہی مجھے دشمن کے حوالے کرے گا۔ ابنِ آدم تو کوچ کر جائے گا جس طرح کلامِ مُقدّس میں لکھا ہے، لیکن اُس شخص پر افسوس جس کے وسیلے سے اُسے دشمن کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اُس کے لئے بہتریہ ہوتا کہ وہ کبھی پیدا ہی نہ ہوتا۔“

پھر یہوداہ نے جو اُسے دشمن کے حوالے کرنے کو تھا پوچھا، ”اُستاد، مَیں تو نہیں ہوں؟“

عیسیٰ نے جواب دیا، ”جی، تم نے خود کہا ہے۔“

فسح کا آخری کھانا

کھانے کے دوران عیسیٰ نے روٹی لے کر شکرگزاری کی دعا کی اور اُسے ٹکڑے کر کے شاگردوں کو دے دیا۔ اُس نے کہا، ”یہ لو اور کھاؤ۔ یہ میرا بدن ہے۔“

پھر اُس نے مَے کا پیالہ لے کر شکرگزاری کی دعا کی اور اُسے اُنہیں دے کر کہا، ”تم سب اِس میں سے پیو۔ یہ میرا خون ہے، نئے عہد کا وہ خون جو بہتوں کے لئے بہایا جاتا ہے تاکہ اُن کے گناہوں کو معاف کر دیا جائے۔ مَیں تم کو سچ بتاتا ہوں کہ اب سے مَیں انگور کا یہ رس نہیں پیوں گا، کیونکہ اگلی دفعہ اِسے تمہارے ساتھ اپنے باپ کی بادشاہی میں ہی پیوں گا۔“

پھر ایک زبور گا کر وہ نکلے اور زیتون کے پہاڑ کے پاس پہنچے۔

  1. اِس حصے میں جو کچھ ہم نے سنا ہے اُسے اپنے لفظوں میں دوہرائیے۔
  2. اِس کلامِ مُقدّس کے حصے میں کون-کون سی باتیں اچھی لگی؟
  3. اِس حصے کا کِیا کِیا ہم سبق ہے؟
  4. اِس حصے میں کِیا کوئی اچھی مثال ہے، جسے ہمیں اپنی زندگی میں عمل کرنا چاہئے، یہ کوئی خراب مثال ہے جسے ہمیں عمل نہیں کرنا چاہئے؟
  5. آنے والے دنوں میں ہم اپنی زندگی میں کس طرح سے ایک خاص طریقے کے ذریعے اِس پر عمل کریں گے؟
  6. ہمارے اِس خاص طریقے کے ذریعے ہم کس سے اِس حصے کا ذکر کریں گے؟


Get it on Google Play
Download on the App Store

Get Discovery Bible Studies on your phone

Discover copyright ©2015-2026 discoverapp.org

Urdu verses taken from the Urdu Geo Version (UGV) ©2010 Geolink Resource Consultants, LLC 10307 W. Broadstreet, #169, Glen Allen, Virginia 23060, USA. Used with permission. All rights reserved.